1 مئی 2012 - 19:30

امریکی صدر اوباما کے اچانک دورۂ کابل کے چند گھنٹے بعد کابل میں زبردست بم دھماکے ہوئے ہیں۔

ابنا: شین ہوا نے عینی شاہدین کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ یہ بم دھماکے مشرقی کابل میں امریکہ کے فوجی اڈے کے قریب ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق دو خود کش حملہ آوروں نے کابل میں پل چرخی علاقے میں امریکی فوجی اڈے کے پاس خود کش حملے کئے جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق ان دھماکوں میں ایک خود کش بم دھماکہ اور ایک کار بم دھماکہ تھا۔ افغان طالبان نے ان بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بم دھماکوں کے بعد کابل میں امریکی سفارتخانے نے ایمر جنسی کا اعلان کر دیا ہے ۔ افغان وزیر داخلہ کا کہنا ہے ان دھماکوں میں چار حملہ آوروں سمیت بارہ افراد ہلاک اور سترہ زخمی ہوئے ہیں۔ [معاہدے پر اوباما اور کرزئی نے دستخط کیے]ادھر امریکی صدر نے کابل کے دورے کے اختتام پر کابل میں امریکی قوم سے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے بارے میں پالیسیوں کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوہزار چودہ کے بعد افغان قوم ہی افغانستان کی سکیورٹی سنبھالے گي۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال جنگي آپریشن افغان فورسز کے حوالے کر دئے جائيں گے۔ صدر اوباما نے واضح کیا کہ افغانستان میں مستقل فوجی اڈے نہیں بنائے جائيں گے ۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق صدر اوباما نے دورۂ کابل میں افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک معاہدے پر دستخط کردئے ہیں۔ امریکہ اور افغانستان کے اسٹراٹیجیک معاہدے پر افغاں صدارتی محل میں دستخط کئے گئے۔ معاہدے پر امریکی صدر باراک اوباما اور افغان صدر حامد کرزئی نے دستخط کیے۔......./169